صبح آزادی (اگست 47)
صبح آزادی (اگست 47)
| فیض احمد فیض | صلاح الدین ثانی |
| یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر | یہ باغ باغ اُجالا، یہ اُجلی اُجلی سحر |
| وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں | وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر ہی تو ہے |
| یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر | یہ وه سحر ہی تو ہے جس کی آرزو لے کر |
| چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں | چلے تھے یار کبھی خواب کی مشعل لے کر— |
| فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل | فلک کے دشت میں تاروں سے بھی پرے منزل |
| کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل | سحر ہوئی تو شبِ سست موج کے ساحل — |
| کہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دل | پر آکے ٹھہر گیا ہے سفینۂ عزمِ دل |
| جواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سے | مرے وطن کی ان محفوظ شاہراہوں سے، |
| چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے | چلے جو یار تو بے خوف دست درازی چلے ۔ |
| دیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے | دیارِ یار کے شاداب سبزہ زاروں سے، |
| پکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہے | اب کے پُرکیف ترانے سنائی دیتے ہیں۔ |
| بہت عزیز تھی لیکن رخ سحر کی لگن | بہت عزیز ہے ہم کو رخِ سحر کی لگن، |
| بہت قریں تھا حسینان نور کا دامن | بہت حسیں ہے گلستان ، وبلبل بے غم |
| سبک سبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن | اب ہے بے خوف تمنا اور بے باک سخن۔ |
| سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراق ظلمت و نور | یہ دیکھو ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور، |
| سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصال منزل و گام | یہ دیکھو ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام۔ |
| بدل چکا ہے بہت اہل درد کا دستور | بدل چکا ہے بہت اہلِ خودی کا دستور، |
| نشاط وصل حلال و عذاب ہجر حرام | نشاطِ وصل حقیقت، عذابِ ہجر گمان۔ |
| جگر کی آگ نظر کی امنگ دل کی جلن | جگر میں آگ نہیں — آس کے فوارے ہیں، |
| کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں | دل کی جلن ہے کہاں— عزم کے شرارے ہیں۔ |
| کہاں سے آئی نگار صبا کدھر کو گئی | ابھی چراغِ سرِ راہ کو کچھ قرار نہیں، |
| ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں | ابھی گرانیِ شب بھی تو پائیدار نہیں، |
| ابھی گرانیٔ شب میں کمی نہیں آئی | نگارِ صبح — سفر سے بہ شان پہنچی ہے۔ |
| نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی | مرے کانوں میں ابھی یہ اذان پہنچی ہے: |
ہم مانیں گے
ہم مانیں گے .......................... ہم دیکھیں گے
| فیض احمد فیض | صلاح الدین بن عبدالرب (صلاح الدین ثانی) |
|---|---|
| ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے | ہم مانیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی مانیں گے— |
| وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے جو لوح ازل میں لکھا ہے | وہ امر کہ جس کا وعدہ ہے، جو لوحِ ازل میں لکھا ہے اب ديس ميں اس کا راج چلے، اس دین کو ہم اپنائیں گے۔ |
| جب ظلم و ستم کے کوہ گراں روئی کی طرح اڑ جائیں گے | اب ضبط کی حد میں طاقت ہے، اور عدل کی چھاؤں ریاست ہے اب ظلم و ستم کے کوہ گراں ، روئی کی طرح اڑ جائیں گے۔ |
| ہم محکوموں کے پاؤں تلے جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی | آزاد ہیں ہم محکوم نہیں، پر عہد وفا ہ بھی نبھانا ہے یہ دھرتی اپنا تن من دھن، ہر باغی کو سمجھائیں گے |
| اور اہل حکم کے سر اوپر جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی | نہ شورِ حسد، نہ فتنہ گری، نہ اہل حکم سے بغاوت ہو تعمیل کریں ہر حکم کی ہم، فتنے کو نہ پھیلائیں گے۔ |
| جب ارض خدا کے کعبے سے سب بت اٹھوائے جائیں گے | یہ ارض وطن توحید کا گڑھ، یہ بت شکنوں کی مٹی ہے اس مٹی سے عہدِ وفا رکھنا، ہم سب کچھ اس پہ لٹائیں گے۔ |
| ہم اہل صفا مردود حرم مسند پہ بٹھائے جائیں گے | یہ اولوالامر ہیں، اہلِ حکم، گر حکم عدل سے خالی دیں ہم شور نہیں، شعور کے ساتھ، اصلاح کی راہ دکھائیں گے۔ |
| سب تاج اچھالے جائیں گے سب تخت گرائے جائیں گے | نہ نعرہ زنی، نہ شورِ ستم، نہ آگ سخن بھڑکائیں گے نہ تاج اچھالے گا کوئی ، نہ تخت گرائے جائیں گے۔ |
| بس نام رہے گا اللہ کا | بس نام رہے گا اللہ کا، بس وعدہ خدا کا نبھائیں گے ۔ |
| جو غائب بھی ہے حاضر بھی جو منظر بھی ہے ناظر بھی | جو حاضر بھی ہے، ناظر بھی، جو راز بھی ہے اور ظاہر بھی اس نام پہ جینا ہے اب تو، اس نام پہ ہی مر جائیں گے |
| اٹھے گا انا الحق کا نعرہ جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو | یہ دیس انا الحق ہی کا تو ہے، پھراس میں شورِ بغاوت کیوں ہم “عبد” رہیں گے “رب” کے فقط، ہم امن کی شمعیں جلائیں گے۔ |
| اور راج کرے گی خلق خدا جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو | نہ “میں” کا غرور، نہ “تم” سے حسد، "ہم" خلق خدا اس دھرتی پہ اب راج رہے گا اللہ کا، سب اس پہ فدا ہو جائیں گے۔ |